کوناجے/منگلورو:3/مئی (ایس اؤنیوز)کارتیک راج کا قتل ہونے کے بعد ان 8مہینوں میں پولس نے رات کے اوقات میں مسلمانوں کے گھروں کے اندر گھس کرمعمر لوگوں اور عورتوں کی بھی تمیز نہ کرتے ہوئے جس طرح کا ظلم ڈھایا ہے اور زور زبردستی کرتے ہوئے غلط الزامات کو قبول کرانےکی جو لگاتار کوششیں کی گئی ہیں، ایسے پولس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرنے کی مانگ کرتے ہوئے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے ریاستی ممبر شافع بیلارے نے کارتیک راج قتل معاملے کی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔
یہاںکوناجے پولس تھانہ کے روبرو کوناجے ناگریک سمیتی کے زیراہتمام منعقدہ احتجاجی مظاہرہ میں شافع بیلارے نےاحتجاجیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کوناجے پولس انسپکٹر اشوک نے اپنے پیشہ سے غداری کی ہے، لہٰذا ایسے آفسروں کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔ انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر فوری طور پر اس غدار انسپکٹر کو معطل نہیں کیا گیا کمشنر دفتر کے سامنے بڑا احتجاج کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ کارتیک راج قتل معاملے کی عدالتی جانچ کرائی جائے ، اگر اس تفتیش کے دوران اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ انسپکٹر اشوک نے تعصب سے کام لیتے ہوئے مسلم نوجوانوں اور عمر رسیدہ لوگوں اور عورتوں پر ظلم ڈھایا ہے تو اُس کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے اور اُسے گرفتار کرتے ہوئے اُس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ کارتیک قتل کے معاملے کو لے کر شہاد نامی نوجوان کو انسپکٹر اشوک نے پوچھ تاچھ کے بہانے اپنی تحویل میں لے کر 7دنوں تک ظلم کیا تھا اور اس بے قصور نوجوان پر دبائو ڈالا گیا تھا کہ وہ اس ناکردہ قتل کو قبول کرے ۔ لیکن جب اس نے الزام سے انکار کیا تو اُس کے خلاف دوسرے فرضی کیس عائد کرکے اسے گرفتارکیا گیا ۔ اس طرح پولس نے کئی نوجوانوں پر ظلم کیا ہے ، اس طرح کی حرکتوں سے عوام کا پولس پر سے اعتماد اُٹھ جاتا ہے۔
شافع بیلارے نے کہا کہ کارتیک راج قتل معاملے کو سیاست اور مذہب سے جوڑنے کی کوشش کرنے والے ممبر آف پارلیمنٹ نلین کمار کٹیل کی زبان ملزموں کی گرفتاری کے بعد ایسے خاموش ہوگئی ہے، جیسے اُنہیں سانپ سونگھ گیا ہو، شافع نے کہا کہ اس سے قبل انہوں نے کوناجے پولس تھانہ کے روبرو احتجاج کرتے ہوئے ضلع کو آگ لگانے کی بات کہی تھی ، انہوں نے ایسے ایم پی کو منتخب کئے جانے کو ہی ملک کی بدقسمتی قرار دیا۔
اس موقع پر تعلقہ پنچایت ممبر مصطفیٰ ہیرکل ، سلفی مومنٹ کے اسماعیل شافعی ، کوموسوہاردا ویدیکے کے عصمت پجیر وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ ایس ڈی پی آئی کے حارث ملار، پی ایف آئی ضلعی صدر نواز اُلال، ایس ڈی پی آئی منگلورو کے عباس کنیا، عطاء اللہ جوکٹے، اشرف کے اے وغیرہ موجود تھے۔ اس کے بعد ناگریک سمیتی کی طرف سے کرائم ڈی سی پی سنجیو پاٹل کو ایک میمورنڈم پیش کیا گیا جس میں انسپکٹر اشوک کو معطل کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔
